سورہ 36 · پارہ 22
سورة يس · 36:25
إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ
میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان ﻻ چکا.*
____________________
* اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کرکے یہ کہا، مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنانا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کرکے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلابت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کر لو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى۔
____________________
* اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کرکے یہ کہا، مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنانا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کرکے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلابت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کر لو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
25. O my people, I have accepted both my and your Lord, so listen to me. I do not care about the threats of murder that you make. But his people insisted on killing him and Allah entered him into Paradise.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں