سورہ 35 · پارہ 22

سورة فاطر · 35:9

وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَىٰ بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ كَذَٰلِكَ النُّشُورُ

اور اللہ ہی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں اور اس سے اس زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کردیتے ہیں۔ اسی طرح دوباره جی اٹھنا (بھی) ہے.*
____________________
* یعنی جس طرح بادلوں سے بارش برسا کر خشک (مردہ) زمین کو ہم شاداب (زندہ) کردیتے ہیں، اسی طریقے سے قیامت والے دن تمام مردہ انسانوں کو بھی ہم زندہ کردیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ (انسان کا سارا جسم بوسیدہ ہوجاتا ہے، صرف ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا حصہ محفوظ رہتا ہے، اسی سے اس کی دوبارہ تخلیق وترکیب ہوگی)۔ ”كُلُّ جَسَدِ ابْنِ آدَمَ يَبْلَى، إِلا عَجب الذَّنَبِ، مِنْه خُلِقَ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ“ (البخاري، تفسير سورة عم، مسلم، كتاب الفتن، باب ما بين النفختين)۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

9. Allah is the one who sent the winds, then these winds move clouds, then I lead these clouds to a land in which there are no plants, then I give life through its water, causing plants to grow, after being dead and dry. So just as I gave life to this land after its death, through the plants I placed in it, the resurrection of the dead will happen on the day of judgment.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں