سورہ 35 · پارہ 22
سورة فاطر · 35:37
وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِيرٍ
اور وه لوگ اس میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو نکال لے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے*، (اللہ کہے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا** وه سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے واﻻ بھی پہنچا تھا***، سو مزه چکھو کہ (ایسے) ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں.
____________________
* یعنی غیروں کی بجائے تیری عبادت اور معصیت کی بجائے اطاعت کریں گے۔
**- اس سے مراد کتنی عمر ہے؟ مفسرین نے مختلف عمریں بیان کی ہیں۔ بعض نے احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ 60 سال کی عمر مراد ہے۔ (ابن کثیر) لیکن ہمارے خیال میں عمر کی تعیین صحیح نہیں، اس لئے کہ عمریں مختلف ہوتی ہیں، کوئی جوانی میں، کوئی کہولت میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے، پھر یہ ادوار بھی لمحۂ گزراں کی طرح مختصر نہیں ہوتے، بلکہ ہر دور خاصا ممتد (لمبا) ہوتا ہے۔ مثلاً جوانی کا دور، بلوغت سے کہولت تک اور کہولت کا دور شیخوخت بڑھاپے تک اور بڑھاپے کا دور موت تک رہتا ہے۔ کسی کو سوچ بچار، نصیحت خیزی اور اثر پذیری کے لئے چند سال، کسی کو اس سے زیادہ اور کسی کو اس سے بھی زیادہ سال ملتے ہیں اور سب سے یہ سوال کرنا صحیح ہوگا کہ ہم نے تجھے اتنی عمر دی تھی کہ اگر تو حق کو سمجھنا چاہتا تو سمجھ سکتا تھا، پھر تونے حق کو سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟
***- اس سے مراد نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ یعنی یاددہانی اور نصیحت کے لئے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) اور اس کے منبرومحراب کے وارث علما اور دعاۃ تیرے پاس آئے، لیکن تونے اپنی عقل وفہم سے کام لیا نہ داعیان حق کی باتوں کی طرف دھیان کیا۔
____________________
* یعنی غیروں کی بجائے تیری عبادت اور معصیت کی بجائے اطاعت کریں گے۔
**- اس سے مراد کتنی عمر ہے؟ مفسرین نے مختلف عمریں بیان کی ہیں۔ بعض نے احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ 60 سال کی عمر مراد ہے۔ (ابن کثیر) لیکن ہمارے خیال میں عمر کی تعیین صحیح نہیں، اس لئے کہ عمریں مختلف ہوتی ہیں، کوئی جوانی میں، کوئی کہولت میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے، پھر یہ ادوار بھی لمحۂ گزراں کی طرح مختصر نہیں ہوتے، بلکہ ہر دور خاصا ممتد (لمبا) ہوتا ہے۔ مثلاً جوانی کا دور، بلوغت سے کہولت تک اور کہولت کا دور شیخوخت بڑھاپے تک اور بڑھاپے کا دور موت تک رہتا ہے۔ کسی کو سوچ بچار، نصیحت خیزی اور اثر پذیری کے لئے چند سال، کسی کو اس سے زیادہ اور کسی کو اس سے بھی زیادہ سال ملتے ہیں اور سب سے یہ سوال کرنا صحیح ہوگا کہ ہم نے تجھے اتنی عمر دی تھی کہ اگر تو حق کو سمجھنا چاہتا تو سمجھ سکتا تھا، پھر تونے حق کو سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟
***- اس سے مراد نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ یعنی یاددہانی اور نصیحت کے لئے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) اور اس کے منبرومحراب کے وارث علما اور دعاۃ تیرے پاس آئے، لیکن تونے اپنی عقل وفہم سے کام لیا نہ داعیان حق کی باتوں کی طرف دھیان کیا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
37. They will cry out therein as loud as they can, seeking help by saying: Our Lord! Let us out from the fire, and we will do righteous deeds, different to what we did before so that we can attain Your pleasure and be saved from Your punishment. Allah will respond to them thus: Did I not let you live a life long enough so that anyone who wanted to take heed could do so and do righteous deeds; and the Messenger came to you to warn you of Allah’s punishment? Thus you have no argument nor any excuse after all of this, so taste the punishment of the fire. Those who wrong themselves by disbelief and sins will have no helper to rescue them from Allah’s punishment or lighten it for them.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں