سورہ 35 · پارہ 22
سورة فاطر · 35:14
إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
اگر تم انہیں پکارو تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں* اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے**، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے***۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا.****
____________________
* یعنی اگر تم انہیں مصائب میں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں ہیں، کیونکہ وہ جمادات ہیں یامنوں مٹی کے نیچے مدفون۔
**- یعنی اگر بالفرض وہ سن بھی لیں تو بےفائدہ، اس لئے کہ وہ تمہاری التجاؤں کے مطابق تمہارا کام نہیں کرسکتے۔
***- اور کہیں گے «مَا كُنْتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ» (يونس: 28) ”تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے“۔ «إِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ» (يونس: 29) ”ہم تو تمہاری عبادت سے بےخبر تھے“۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، وہ سب پتھر کی مورتیاں ہی نہیں ہوں گی، بلکہ ان میں عاقل (ملائکہ، جن، شیاطین اور صالحین) بھی ہوں گے۔ تب ہی تو یہ انکار کریں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی حاجت براری کے لئے پکارنا شرک ہے۔
****- اس لئے کہ اس جیسا کامل علم کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ وہی تمام امور کی کنہ اور حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے جس میں ان پکارﮮ جانے والوں کی بےاختیاری، پکار کو نہ سننا اور قیامت کے دن اس کا انکار کرنا بھی شامل ہے۔
____________________
* یعنی اگر تم انہیں مصائب میں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں ہیں، کیونکہ وہ جمادات ہیں یامنوں مٹی کے نیچے مدفون۔
**- یعنی اگر بالفرض وہ سن بھی لیں تو بےفائدہ، اس لئے کہ وہ تمہاری التجاؤں کے مطابق تمہارا کام نہیں کرسکتے۔
***- اور کہیں گے «مَا كُنْتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ» (يونس: 28) ”تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے“۔ «إِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ» (يونس: 29) ”ہم تو تمہاری عبادت سے بےخبر تھے“۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، وہ سب پتھر کی مورتیاں ہی نہیں ہوں گی، بلکہ ان میں عاقل (ملائکہ، جن، شیاطین اور صالحین) بھی ہوں گے۔ تب ہی تو یہ انکار کریں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی حاجت براری کے لئے پکارنا شرک ہے۔
****- اس لئے کہ اس جیسا کامل علم کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ وہی تمام امور کی کنہ اور حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے جس میں ان پکارﮮ جانے والوں کی بےاختیاری، پکار کو نہ سننا اور قیامت کے دن اس کا انکار کرنا بھی شامل ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
14. If you call your gods, they cannot hear your call, because they are inanimate objects which have no life in them nor can they hear. And if they could hear your calling them, for argument’s sake, they could not respond to you. And on the day of judgment they will disassociate themselves from your idolatry and your worshipping them, so there is nobody who can inform you, O Messenger, more truthfully than Allah.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں