سورہ 34 · پارہ 22

سورة سبأ · 34:52

وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ

اس وقت کہیں گے کہ ہم اس قرآن پر ایمان ﻻئے لیکن اس قدر دور جگہ سے (مطلوب چیز) کیسے ہاتھ *آسکتی ہے.
____________________
* تَنَاوُشٌ کے معنی تناول یعنی پکڑنے کے ہیں یعنی اب آخرت میں انہیں ایمان کس طرح حاصل ہوسکتا ہے جب کہ دنیا میں اس سے گریز کرتے رہے گویا آخرت ایمان کے لئے، دنیا کےمقابلے میں دور کی جگہ ہے، جس طرح دور سےکسی چیز کو پکڑنا ممکن نہیں، آخرت میں ایمان لانے کی گنجائش نہیں۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

52. And they will say when they see their fate: “We have brought faith in the day of judgment”, but how will they pursue and acquire faith when the place for accepting faith has gone far from them, by their leaving the worldly abode, the abode of action and no reward, to the abode of the Hereafter, the abode of reward and no action?

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں