سورہ 34 · پارہ 22
سورة سبأ · 34:11
أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ ۖ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
کہ تو پوری پوری زرہیں بنا* اور جوڑوں میں اندازه رکھ** تم سب نیک کام کیا کرو***۔ (یقین مانو) کہ میں تمہارے اعمال دیکھ رہا ہوں.
____________________
* سَابِغَاتٍ محذوف موصوف کی صفت ہے دُرُوعًا سَابِغَاتٍ یعنی پوری لمبی زرہیں، جو لڑنے والے کے پورے جسم کو صحیح طریقے سے ڈھانک لیں اور اسے دشمن کے وار سے محفوظ رکھیں۔
**- تاکہ چھوٹی بڑی نہ ہوں، یا سخت یا نرم نہ ہوں یعنی کڑیوں کے جوڑنے میں کیل اتنے باریک نہ ہوں کہ جوڑ حرکت کرتے رہیں اور ان میں قرار وثبات نہ آئے اور نہ اتنے موٹے ہوں کہ اسے توڑ ہی ڈالیں یا جس سے حلقہ تنگ ہو جائے اور اسے پہنا نہ جاسکے۔ زرہ بافی کی صنعت کے بارے میں حضرت داود (عليه السلام) کو ہدایات دی گئیں۔
***- یعنی ان نعمتوں کے بدلےمیں عمل صالح کا اہتمام کرو تاکہ میرا عملی شکر بھی ہوتا رہے۔ اس سےمعلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیوی نعمتوں سے سرفراز فرمائے، اسے اسی حساب سے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیئے اور شکر میں بنیادی چیز یہی ہے کہ منعم کو راضی رکھنے کی بھرپور سعی کی جائے یعنی اس کی اطاعت کی جائے۔ اور نافرمانی سے بچا جائے۔
____________________
* سَابِغَاتٍ محذوف موصوف کی صفت ہے دُرُوعًا سَابِغَاتٍ یعنی پوری لمبی زرہیں، جو لڑنے والے کے پورے جسم کو صحیح طریقے سے ڈھانک لیں اور اسے دشمن کے وار سے محفوظ رکھیں۔
**- تاکہ چھوٹی بڑی نہ ہوں، یا سخت یا نرم نہ ہوں یعنی کڑیوں کے جوڑنے میں کیل اتنے باریک نہ ہوں کہ جوڑ حرکت کرتے رہیں اور ان میں قرار وثبات نہ آئے اور نہ اتنے موٹے ہوں کہ اسے توڑ ہی ڈالیں یا جس سے حلقہ تنگ ہو جائے اور اسے پہنا نہ جاسکے۔ زرہ بافی کی صنعت کے بارے میں حضرت داود (عليه السلام) کو ہدایات دی گئیں۔
***- یعنی ان نعمتوں کے بدلےمیں عمل صالح کا اہتمام کرو تاکہ میرا عملی شکر بھی ہوتا رہے۔ اس سےمعلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیوی نعمتوں سے سرفراز فرمائے، اسے اسی حساب سے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیئے اور شکر میں بنیادی چیز یہی ہے کہ منعم کو راضی رکھنے کی بھرپور سعی کی جائے یعنی اس کی اطاعت کی جائے۔ اور نافرمانی سے بچا جائے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
11. O David! Make an expansive armour which will protect your soldiers from the attacks of their enemies, and make the rivets in proportion to the rings so that they are not too fine such that do not lodge in them, nor too thick such that they do not fit in them either. And do good deeds; I am watching over your actions, none of your actions are hidden from Me and I shall requite you for them.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں