سورہ 33 · پارہ 22
سورة الأحزاب · 33:69
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا
اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے انہیں اس سے بری فرما دیا*، اور وه اللہ کے نزدیک باعزت تھے.
____________________
* اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نہایت باحیا تھے، چنانچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنی اسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰ (عليه السلام) کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے یہ ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) تنہائی میں غسل کرنے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، پتھر (اللہ کے حکم سے) کپڑے لے بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسی (عليه السلام) اس کے پیچھے پیچھے دوڑے، حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے، انہوں نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات دور ہوگئے۔ موسیٰ (عليه السلام) نہایت حسین وجمیل اور ہر قسم کے داغ اور عیب سے پاک تھے۔ یوں اللہ تبارک وتعالیٰ نے معجزانہ طور پر پتھر کے ذریعے سے ان کی اس الزام اور شبہے سے براءت کردی جو بنی اسرائیل کی طرف سے ان پر کیا جاتا تھا (صحيح بخاري كتاب الأنبياء) حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے حوالے سے اہل ایمان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) کو بنی اسرائیل کی طرح ایذا مت پہنچاؤ اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بابت ایسی بات مت کرو جسے سن کر آپ (صلى الله عليه وسلم) قلق اور اضطراب محسوس کریں، جیسے ایک موقعے پر مال غنیمت کی تقسیم میں ایک شخص نے کہا کہ اس میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ جب آپ (صلى الله عليه وسلم) تک یہ الفاظ پہنچے تو غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا چہرۂ مبارک سرخ ہوگیا آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”موسیٰ (عليه السلام) پر اللہ کی رحمت ہو، انہیں اس سے کہیں زیادہ ایذا پہنچائی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا“۔ (بخاري كتاب الأنبياء، مسلم، كتاب الزكاة، باب إعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام..)۔
____________________
* اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نہایت باحیا تھے، چنانچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنی اسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰ (عليه السلام) کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے یہ ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) تنہائی میں غسل کرنے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، پتھر (اللہ کے حکم سے) کپڑے لے بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسی (عليه السلام) اس کے پیچھے پیچھے دوڑے، حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے، انہوں نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات دور ہوگئے۔ موسیٰ (عليه السلام) نہایت حسین وجمیل اور ہر قسم کے داغ اور عیب سے پاک تھے۔ یوں اللہ تبارک وتعالیٰ نے معجزانہ طور پر پتھر کے ذریعے سے ان کی اس الزام اور شبہے سے براءت کردی جو بنی اسرائیل کی طرف سے ان پر کیا جاتا تھا (صحيح بخاري كتاب الأنبياء) حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے حوالے سے اہل ایمان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) کو بنی اسرائیل کی طرح ایذا مت پہنچاؤ اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بابت ایسی بات مت کرو جسے سن کر آپ (صلى الله عليه وسلم) قلق اور اضطراب محسوس کریں، جیسے ایک موقعے پر مال غنیمت کی تقسیم میں ایک شخص نے کہا کہ اس میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ جب آپ (صلى الله عليه وسلم) تک یہ الفاظ پہنچے تو غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا چہرۂ مبارک سرخ ہوگیا آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”موسیٰ (عليه السلام) پر اللہ کی رحمت ہو، انہیں اس سے کہیں زیادہ ایذا پہنچائی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا“۔ (بخاري كتاب الأنبياء، مسلم، كتاب الزكاة، باب إعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام..)۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
69. O those who have faith in Allah and do whatever Allah has legislated for them! Do not cause your Messenger inconvenience like those who caused Moses inconvenience by saying that his testicles were inflamed, and so Allah cleared him of their allegations, and his innocence from their accusations of him became clear to them. Moses is highly ranked according to Allah; his supplications were not rejected, nor were his efforts in vain.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں