سورہ 33 · پارہ 22
سورة الأحزاب · 33:53
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ ۖ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ تو وه لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا*، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو**۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے***، نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو**** اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناه) ہے.*****
____________________
* اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی دعوت پر حضرت زینب (رضی الله عنها) کے ولیمے میں صحابہ کرام (رضي الله عنهم) تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو خاص تکلیف ہوئی، تاہم حیا واخلاق کی وجہ سے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں جانے کے لئے کہا نہیں۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة الأحزاب) چنانچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلا دیئے گئے کہ ایک تو اس وقت جاؤ، جب کھانا تیار ہوچکا ہو، پہلے سے ہی جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ دوسرا، کھاتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ، وہاں بیٹھے ہوئے باتیں مت کرتے رہو، کھانے کا ذکر تو سبب نزول کی وجہ سے ہے، ورنہ مطلب یہ ہے کہ جب بھی تمہیں بلایا جائے چاہے کھانے کے لئے یا کسی اور کام کے لئے، اجازت کے بغیر گھر کے اندر داخل مت ہو۔
**- یہ حکم حضرت عمر (رضي الله عنه) کی خواہش پر نازل ہوا۔ حضرت عمر (رضي الله عنه) نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سے عرض کیا، یا رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم)! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم دیں تو کیا اچھا ہو۔ جس پر اللہ نے یہ حکم نازل فرما دیا۔ (صحيح بخاري، كتاب الصلاة، وتفسير سورة البقرة، مسلم باب فضائل عمر بن الخطاب)۔
***- یہ پردے کی حکمت اور علت ہے کہ اس سے مرد اور عورت دونوں کے دل ریب وشک سے اور ایک دوسرے کے ساتھ فتنے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔
****- چاہے وہ کسی بھی لحاظ سے ہو۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا، آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خواہش کے بغیر گھر میں بیٹھے رہنا اور بغیر حجاب کے ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا، یہ امور بھی ایذا کے باعث ہیں، ان سے بھی اجتناب کرو۔
*****- یہ حکم ان ازواج مطہرات کے بارے میں ہے جو وفات کے وقت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے حبالۂ عقد میں تھیں۔ تاہم جن کو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ہم بستری کے بعد زندگی میں طلاق دے کر اپنے سےعلیحدہ کردیا ہو، وہ اس کے عموم میں داخل ہیں یا نہیں؟ اس میں دو رائے ہیں۔ بعض ان کو بھی شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں۔ لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم) کی ایسی کوئی بیوی تھی ہی نہیں۔ اس لئے یہ محض ایک فرضی شکل ہے۔ علاوہ ازیں ایک تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جن سے آپ (صلى الله عليه وسلم) نکاح ہوا لیکن ہم بستری سے قبل ہی ان کو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے طلاق دے دی۔ ان سے دوسرے لوگوں کا نکاح درست ہونے میں کوئی نزاع معلوم نہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
____________________
* اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی دعوت پر حضرت زینب (رضی الله عنها) کے ولیمے میں صحابہ کرام (رضي الله عنهم) تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو خاص تکلیف ہوئی، تاہم حیا واخلاق کی وجہ سے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں جانے کے لئے کہا نہیں۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة الأحزاب) چنانچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلا دیئے گئے کہ ایک تو اس وقت جاؤ، جب کھانا تیار ہوچکا ہو، پہلے سے ہی جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ دوسرا، کھاتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ، وہاں بیٹھے ہوئے باتیں مت کرتے رہو، کھانے کا ذکر تو سبب نزول کی وجہ سے ہے، ورنہ مطلب یہ ہے کہ جب بھی تمہیں بلایا جائے چاہے کھانے کے لئے یا کسی اور کام کے لئے، اجازت کے بغیر گھر کے اندر داخل مت ہو۔
**- یہ حکم حضرت عمر (رضي الله عنه) کی خواہش پر نازل ہوا۔ حضرت عمر (رضي الله عنه) نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سے عرض کیا، یا رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم)! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم دیں تو کیا اچھا ہو۔ جس پر اللہ نے یہ حکم نازل فرما دیا۔ (صحيح بخاري، كتاب الصلاة، وتفسير سورة البقرة، مسلم باب فضائل عمر بن الخطاب)۔
***- یہ پردے کی حکمت اور علت ہے کہ اس سے مرد اور عورت دونوں کے دل ریب وشک سے اور ایک دوسرے کے ساتھ فتنے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔
****- چاہے وہ کسی بھی لحاظ سے ہو۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا، آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خواہش کے بغیر گھر میں بیٹھے رہنا اور بغیر حجاب کے ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا، یہ امور بھی ایذا کے باعث ہیں، ان سے بھی اجتناب کرو۔
*****- یہ حکم ان ازواج مطہرات کے بارے میں ہے جو وفات کے وقت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے حبالۂ عقد میں تھیں۔ تاہم جن کو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ہم بستری کے بعد زندگی میں طلاق دے کر اپنے سےعلیحدہ کردیا ہو، وہ اس کے عموم میں داخل ہیں یا نہیں؟ اس میں دو رائے ہیں۔ بعض ان کو بھی شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں۔ لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم) کی ایسی کوئی بیوی تھی ہی نہیں۔ اس لئے یہ محض ایک فرضی شکل ہے۔ علاوہ ازیں ایک تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جن سے آپ (صلى الله عليه وسلم) نکاح ہوا لیکن ہم بستری سے قبل ہی ان کو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے طلاق دے دی۔ ان سے دوسرے لوگوں کا نکاح درست ہونے میں کوئی نزاع معلوم نہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
53. O those who have faith in Allah and do whatever Allah has legislated for them! Do not enter the houses of the Prophet except after he has given you permission to enter by inviting you for food. And do not come too early so you end up sitting for longer than needed, waiting for the food to be cooked, rather when you are invited, then enter and after you have eaten, return. Do not remain behind socialising with each other, because remaining behind causes inconvenience to the Prophet (peace be upon him) and he feels embarrassed to ask you to leave, but Allah is not embarrassed to command you to do what is right, and so he has commanded you leave so that you do not cause inconvenience to him (peace be upon him) by staying for too long. And when you ask for something from the wives of the Prophet (peace be upon him) i.e. utensils etc. then ask from behind a veil, not face to face, in a manner that you cannot see them with your eyes. This is to protect them due to the stature of the Messenger of Allah. Asking from behind a veil is purer for your hearts and their hearts, so that Satan cannot influence your hearts through whispers and beautifying evil. And O believers! It is not befitting for you to cause inconvenience to the Messenger of Allah by remaining behind to socialise, nor that you marry his wives after he has passed away, because they are the wives of the believers and it is not permissible for anyone to marry his mother. Indeed, that causing inconvenience - of which is your marrying his wives after his death - is forbidden and regarded as a great sin by Allah.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں