سورہ 33 · پارہ 22

سورة الأحزاب · 33:45

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

اے نبی! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے واﻻ*، خوشخبریاں سنانے واﻻ، آگاه کرنے واﻻ بھیجا ہے.
____________________
* بعض لوگ شاہد کے معنی حاضر وناظر کے کرتے ہیں جو قرآن کی تحریف معنوی ہے۔ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) اپنی امت کی گواہی دیں گے، ان کی بھی جو آپ (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لائے اور ان کی بھی جنہوں نے تکذیب کی۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کے اعضائے وضو سے پہنچان لیں گے جو چمکتے ہوں گے، اسی طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) دیگر انبیا علیہم السلام کی گواہی دیں گے کہ ا نہوں نے اپنی اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ گواہی اللہ کے دیئے ہوئے یقینی علم کی بنیاد پر ہوگی۔ اس لئے نہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) تمام انبیا علیہم السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے ہیں، یہ عقیدہ تو نصوص قرآنی کے خلاف ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

45. O Prophet! Indeed, I have sent you to the people as a witness against them that you convey to them the message; as a giver of glad tidings to the believers of the Paradise I have prepared for them, and as a warner for the disbelievers of the punishment I have prepared for them.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں