سورہ 32 · پارہ 21
سورة السجدة · 32:12
وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ
کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں* گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب** تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں.***
____________________
* یعنی اپنےکفر وشرک اور معصیت کی وجہ سے مارے ندامت کے۔
**- یعنی جس کی تکذیب کرتے تھے، اسے دیکھ لیا، جس کا انکار کرتے تھے، اسے سن لیا۔ یا تیری وعیدوں کی سچائی کو دیکھ لیا اور پیغمبروں کی تصدیق کو سن لیا لیکن اس وقت کا دیکھنا، سننا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔
***- لیکن اب یقین کیا تو کس کام کا؟ اب تو اللہ کا عذاب ان پرثابت ہو چکا جسے بھگتنا ہوگا۔
____________________
* یعنی اپنےکفر وشرک اور معصیت کی وجہ سے مارے ندامت کے۔
**- یعنی جس کی تکذیب کرتے تھے، اسے دیکھ لیا، جس کا انکار کرتے تھے، اسے سن لیا۔ یا تیری وعیدوں کی سچائی کو دیکھ لیا اور پیغمبروں کی تصدیق کو سن لیا لیکن اس وقت کا دیکھنا، سننا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔
***- لیکن اب یقین کیا تو کس کام کا؟ اب تو اللہ کا عذاب ان پرثابت ہو چکا جسے بھگتنا ہوگا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
12. The criminals will soon emerge on the Day of Judgment bowing their heads in humiliation due to their rejection of resurrection, feeling ashamed and saying, “Our Lord! I have seen the resurrection I used to reject, and heard the confirmation of that which the Messengers brought from You, so return us to the worldly life so that I can do good deeds that will make You pleased with us. Indeed, I now convinced of the resurrection and the truth of whatever the Messengers brought.” If you were to see the criminals in that state, you would see a grave scene!
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں