سورہ 31 · پارہ 21

سورة لقمان · 31:19

وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ

اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر*، اور اپنی آواز پست کر** یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے.
____________________
* یعنی چال اتنی سست نہ ہو جیسے کوئی بیمار ہو اور نہ اتنی تیز ہو کہ شرف ووقار کے خلاف ہو، اسی کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا «يَمْشُونَ عَلَى الأَرْضِ هَوْنًا» (الفرقان: 63) ”اللہ کے بندے زمین پر وقار اور سکونت کےساتھ چلتے ہیں“۔
**- یعنی چیخ یا چلا کر بات نہ کر، اس لئے کہ زیادہ اونچی آوازسے بات کرنا پسندیدہ ہوتا تو گدھے کی آواز سب سے اچھی سمجھی جاتی لیکن ایسا نہیں ہے، بلکہ گدھے کی آواز سب سے بدتر اور کریہ ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ (گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے پناہ مانگو) (بخاری، کتاب بدء الخلق اور مسلم وغیرہ)۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

19. Be moderate in your manner of walking: between hastiness and lethargy, displaying dignity. And lower your voice; do not raise it such that it causes inconvenience. Indeed, the most hideous of sounds is that of the donkey because of them being loud.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں