سورہ 30 · پارہ 21

سورة الروم · 30:38

فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے*، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنا چاہتے ہوں**، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں.
____________________
* جب وسائل رزق تمام تر اللہ ہی کےاختیار میں ہیں اور وہ جس پر چاہے اس کےدروازے کھول دیتا ہےتو اصحاب ثروت کو چاہئے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئےمال میں سے ان کا وہ حق ادا کرتے رہیں جو ان کے مال میں ان کے مستحق رشتے داروں، مساکین اور مسافر کا رکھا گیا ہے، رشتےدار اس لئے مقدم کیاکہ اس کی فضیلت زیادہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ غریب رشتےدار کے ساتھ احسان کرنا دوہرے اجر کا باعث ہے۔ ایک صدقے کا اجر اور دوسرا صلۂ رحمی کا۔ علاوہ ازیں اسے حق سےتعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ امداد کرکے ان پر تم احسان نہیں کرو گے بلکہ ایک حق کی ہی ادائیگی کرو گے۔
**- یعنی جنت میں اس کے دیدار سےمشرف ہونا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

38. O Muslim! Give the relative whatever goodness and kinship he deserves, give the needy whatever he can fulfil his need with and help the stranger whose path back home has been cut off. Giving in these causes is better for those who seek the pleasure of Allah; those who give priority to this kind of assistance and rights are the ones who succeed by achieving their objective of paradise, and being granted safety from the feared punishment.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں