سورہ 3 · پارہ 4
سورة آل عمران · 3:97
فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، اس میں جو آ جائے امن واﻻ ہو جاتا ہے* اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے**۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے.***
____________________
* اس میں قتال، خوں ریزی، شکار حتیٰ کہ درخت تک کا کاٹنا ممنوع ہے (صحيحين)
**- (راہ پا سکتے ہوں) کا مطلب زاد راہ کی استطاعت اور فراہمی ہے۔ یعنی اتنا خرچ کہ سفر کے اخراجات پورے ہو جائیں۔ علاوہ ازیں استطاعت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ راستہ پرامن ہو اور جان ومال محفوظ رہے، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ صحت وتندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو۔ نیز عورت کے لئے محرم بھی ضروری ہے۔ (فتح القدير) یہ آیت ہر صاحب استطاعت کے لئے وجوب حج کی دلیل ہے اور احادیث سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ عمر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے (تفسير ابن كثير)
***- استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے کو قرآن نے (کفر) سے تعبیرکیا ہے جس سے حج کی فرضیت میں اور اس کی تاکید میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ احادیث وآثار میں بھی ایسے شخص کے لئے سخت وعید آئی ہے۔ (تفسير ابن كثير)
____________________
* اس میں قتال، خوں ریزی، شکار حتیٰ کہ درخت تک کا کاٹنا ممنوع ہے (صحيحين)
**- (راہ پا سکتے ہوں) کا مطلب زاد راہ کی استطاعت اور فراہمی ہے۔ یعنی اتنا خرچ کہ سفر کے اخراجات پورے ہو جائیں۔ علاوہ ازیں استطاعت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ راستہ پرامن ہو اور جان ومال محفوظ رہے، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ صحت وتندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو۔ نیز عورت کے لئے محرم بھی ضروری ہے۔ (فتح القدير) یہ آیت ہر صاحب استطاعت کے لئے وجوب حج کی دلیل ہے اور احادیث سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ عمر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے (تفسير ابن كثير)
***- استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے کو قرآن نے (کفر) سے تعبیرکیا ہے جس سے حج کی فرضیت میں اور اس کی تاکید میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ احادیث وآثار میں بھی ایسے شخص کے لئے سخت وعید آئی ہے۔ (تفسير ابن كثير)
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
97. In this place of worship are clear signs of its special honour and blessings, such as the acts of worship performed in it, and its landmarks, including the stone that Abraham stood on when he was raising the walls of the Kaaba; and whoever enters it is safe, with no harm coming to them. People have a duty to Allah to perform the acts of Hajj in this House of worship, if they are able to do so. Whoever rejects the duty of Hajj disbelieves in Allah, and Allah is in no need of them or anything all in the worlds.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں