سورہ 3 · پارہ 3
سورة آل عمران · 3:39
فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ
پس فرشتوں نے انہیں آواز دی، جب کہ وه حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، کہ اللہ تعالیٰ تجھے یحيٰ کی یقینی خوشخبری دیتا ہے جو* اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی تصدیق کرنے واﻻ**، سردار، ضابط نفس اور نبی ہے نیک لوگوں میں سے۔
____________________
* بے موسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا (عليه السلام) کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اللہ تعالیٰ انہیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے۔ چنانچہ بے اختیار دعا کے لئےہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھ گئے، جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔
**- اللہ کے کلمے کی تصدیق سے مراد حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تصدیق ہے۔ گویا حضرت یحییٰ، حضرت عیسی علیہما السلام سے بڑے ہوئے۔ دونوں آپس میں خالہ زاد تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کی تائید کی۔ سیداً کے معنی ہیں سردار حصوراً کے معنی ہیں، گناہوں سے پاک یعنی گناہوں کے قریب نہیں پھٹکتے گویا کہ ان کو ان سے روک دیا گیا ہے۔ یعنی حَصُورٌبمعنی مَحْصُورٌ، بعض نے اس کے معنی نامرد کے کئے ہیں۔ لیکن یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ ایک عیب ہے جب کہ یہاں ان کا ذکر مدح اور فضیلت کے طور پر کیا گیا ہے۔
____________________
* بے موسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا (عليه السلام) کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اللہ تعالیٰ انہیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے۔ چنانچہ بے اختیار دعا کے لئےہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھ گئے، جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔
**- اللہ کے کلمے کی تصدیق سے مراد حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تصدیق ہے۔ گویا حضرت یحییٰ، حضرت عیسی علیہما السلام سے بڑے ہوئے۔ دونوں آپس میں خالہ زاد تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کی تائید کی۔ سیداً کے معنی ہیں سردار حصوراً کے معنی ہیں، گناہوں سے پاک یعنی گناہوں کے قریب نہیں پھٹکتے گویا کہ ان کو ان سے روک دیا گیا ہے۔ یعنی حَصُورٌبمعنی مَحْصُورٌ، بعض نے اس کے معنی نامرد کے کئے ہیں۔ لیکن یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ ایک عیب ہے جب کہ یہاں ان کا ذکر مدح اور فضیلت کے طور پر کیا گیا ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
39. The angels called out to him while he was standing in prayer in his place of worship, saying: Allah gives you good news of a child to be born to you whose name will be John. He will confirm a word from Allah – which refers to Jesus, son of Mary, because he was specially created by a word from Allah. This child will be a leader of his people with his knowledge and worship. He will be innocent, keeping himself away from desires, including approaching women. He will dedicate himself to worshipping His Lord and will also be a prophet from those who are righteous.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں