سورہ 3 · پارہ 4
سورة آل عمران · 3:199
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۗ أُولَٰئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
یقیناً اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں*، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے واﻻ ہے.
____________________
* اس آیت میں اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جسے رسول کریم (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز کر دیا، جن کا مشن ہی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا، آیات الٰہی میں تحریف تلبیس کرنا اور دنیا کے عارضی اور فانی مفادات کے لئے کتمان علم کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ مومنین اہل کتاب ایسے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں، اللہ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچنے والے نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو علما ومشائخ دنیوی اغراض کے لئے آیات الٰہی میں تحریف یا ان کے مفہوم کے بیان میں دجل وتلبیس سے کام لیتے ہیں، وہ ایمان وتقویٰ سے محروم ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ آیت میں جن مومنین اہل کتاب کا ذکر ہے، یہود میں سے ان کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچتی البتہ عیسائی بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے اور انہوں نے دین حق کو اپنایا۔ (تفسیر ابن کثیر)
____________________
* اس آیت میں اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جسے رسول کریم (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز کر دیا، جن کا مشن ہی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا، آیات الٰہی میں تحریف تلبیس کرنا اور دنیا کے عارضی اور فانی مفادات کے لئے کتمان علم کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ مومنین اہل کتاب ایسے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں، اللہ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچنے والے نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو علما ومشائخ دنیوی اغراض کے لئے آیات الٰہی میں تحریف یا ان کے مفہوم کے بیان میں دجل وتلبیس سے کام لیتے ہیں، وہ ایمان وتقویٰ سے محروم ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ آیت میں جن مومنین اہل کتاب کا ذکر ہے، یہود میں سے ان کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچتی البتہ عیسائی بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے اور انہوں نے دین حق کو اپنایا۔ (تفسیر ابن کثیر)
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
199. Nevertheless, the People of the Scripture are not all the same. There is a group among them who have faith in Allah, the truth and guidance He revealed to you and what was revealed to them in their scriptures; and they do not discriminate between the messengers of Allah, but humble themselves before Him, desiring what is with Him, and not exchanging His verses and signs for a small enjoyment in this world. Such people will have a great reward with their Lord. Allah is quick to take account of what people do, and quick to reward them.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں