سورہ 3 · پارہ 4

سورة آل عمران · 3:153

۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ ۗ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

جب کہ تم چڑھے چلے جا رہے تھے* اور کسی طرف توجہ تک نہیں کرتے تھے اور اللہ کے رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے آوازیں دے رہے تھے**، بس تمہیں غم پر غم پہنچا*** تاکہ تم فوت شده چیز پر غمگین نہ ہو اور نہ پہنچنے والی (تکلیف) پر اداس ہو****، اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے.
____________________
* کفارکے یکبارگی اچانک حملے سے مسلمانوں میں جو بھگدڑ مچی اورمسلمانوں کی اکثریت نے راہ فرار اختیار کی۔ یہ اس کانقشہ بیان کیا جا رہا ہے۔تُصْعِدُونَ إِصْعَادٌسے ہے جس کے معنی اپنی روبھاگے جانے یا وادی کی طرف چڑھے جانے یا بھاگنے کے ہیں۔ (طبری )
**- نبی (صلى الله عليه وسلم) اپنے چند ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے اور مسلمانوں کو پکارتے رہے۔«إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ! إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ!»، ”اللہ کے بندو! میری طرف لوٹ کر آؤ، اللہ کے بندو! میری طرف لوٹ کر آؤ“۔ لیکن سراسیمگی کے عالم میں یہ پکار کون سنتا؟۔
***- فَأَثَابَكُمْ تمہاری کوتاہی کے بدلے میں تمہیں غم پر غم دیا غَمًّا بِغَمٍّ بمعنی غَمًّا علی غَمٍّ ابن جریر اور ابن کثیر کے اختیار کردہ راجح قول کے مطابق پہلے غم سے مراد ہے، مال غنیمت اور کفار پر فتح وظفر سے محرومی کا غم اور دوسرے غم سے مراد ہے مسلمانوں کی شہادت، ان کے زخمی ہونے، نبی (صلى الله عليه وسلم) کے حکم کی خلاف ورزی اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خبر شہادت سے پہنچنے والا غم۔
****- یعنی یہ غم پر غم اس لئے دیا تاکہ تمہارے اندر شدائد برداشت کرنے کی قوت اور عزم وحوصلہ پیدا ہو۔ جب یہ قوت اور حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر انسان کو فوت شدہ چیز پر غم اور پہنچنے والے شدائد پر ملال نہیں ہوتا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

153. Remember, O believers, when you ran away on the day of Uḥud, when failure came upon you because you went against the command of the Messenger. None of you looked at anyone else, and the Messenger called you from behind, between you and the idolaters, saying, ‘Come to me, servants of Allah! Come to me, servants of Allah!’ Allah repaid you for this with pain and distress, followed by pain and distress: first because of the victory and gains of war you lost; and then with the rumour that the Prophet had been killed that spread among you. Later you came to know that the Prophet had not been killed, so that you would not grieve about the victory and gains of war that you lost, or the deaths and wounds that you received, as a way of making misfortune and pain easier on you. Allah is aware of everything you do and of everything in your hearts.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں