سورہ 28 · پارہ 20

سورة القصص · 28:8

فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ

آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا* کہ آخرکار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے رنج کا باعﺚ بنا**، کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطاکار.***
____________________
* یہ تابوت بہتا بہتا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا، جو لب دریا ہی تھا اور وہاں فرعون کے نوکروں چاکروں نے پکڑ کر باہر نکال لیا۔
**- یہ لام عاقبت کے لیے ہے۔ یعنی انہوں نے تو اسے اپنا بچہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کر لیا تھا نہ کہ دشمن سمجھ کر۔ لیکن انجام ان کے اس فعل کا یہ ہوا کہ وہ ان کا دشمن اور رنج وغم کا باعث، ثابت ہوا۔
***- یہ ماقبل کی تعلیل ہے کہ موسیٰ (عليه السلام) ان کے لیے دشمن کیوں ثابت ہوئے؟ اس لیے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطاکار تھے، اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے پروردہ کوہی ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنا دیا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

8. So she acted upon whatever I inspired her with, placing him in a box and casting it into the sea. The family of Pharaoh found him and took him in, so that Allah’s plan for Moses to become an enemy to Pharaoh by having his kingdom taken away from him and bringing him grief at his hands, comes to fruition. Indeed, Pharaoh, his minister Hāmān and their aides were sinful due to their disbelief, oppression and corruption on Earth.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں