سورہ 28 · پارہ 20
سورة القصص · 28:55
وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ
اور جب بیہوده بات* کان میں پڑتی ہے تو اس سے کناره کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو**، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے.
____________________
* یہا ں لغو سے مراد وہ سب وشتم اور دین کے ساتھ استہزا ہے جو مشرکین کرتے تھے۔
**- یہ سلام، سلام تحیہ نہیں بلکہ سلام متارکہ ہے یعنی ہم تم جیسے جاہلوں سے بحث اور گفتگو کے روادار ہی نہیں۔ جیسے اردو میں بھی کہتے ہیں، جاہلوں کو دور ہی سے سلام، ظاہر ہے سلام سے مراد ترک مخاطبت ہی ہے۔
____________________
* یہا ں لغو سے مراد وہ سب وشتم اور دین کے ساتھ استہزا ہے جو مشرکین کرتے تھے۔
**- یہ سلام، سلام تحیہ نہیں بلکہ سلام متارکہ ہے یعنی ہم تم جیسے جاہلوں سے بحث اور گفتگو کے روادار ہی نہیں۔ جیسے اردو میں بھی کہتے ہیں، جاہلوں کو دور ہی سے سلام، ظاہر ہے سلام سے مراد ترک مخاطبت ہی ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
55. When these believers hear any false speech from the People of the Book, they turn away from it without paying attention it, and they say addressing those who say such: “For us is the reward of our actions and for you is the reward of your actions. You are safe from us swearing and causing harm. I do not seek to accompany ignorant people, due to the damage and harm it contains for one’s religion and worldly life”.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں