سورہ 27 · پارہ 20

سورة النمل · 27:91

إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت واﻻ بنایا ہے*، جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہو جاؤں.
____________________
* اس سےمراد مکہ شہر ہے اس کا بطور خاص اس لیے ذکر کیا ہے کہ اسی میں خانہ کعبہ ہے اور یہی رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو بھی سب سے زیادہ محبوب تھا۔ حرمت والا کا مطلب ہے اس میں خون ریزی کرنا، ظلم کرنا، شکار کرنا، درخت کاٹنا حتیٰ کہ کانﭩا توڑنا بھی منع ہے۔ (بخاري كتاب الجنائز، مسلم كتاب الحج باب تحريم مكة وصيدها، والسنن)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

91. O Messenger! Say to them: “I have only been commanded to worship the Lord of this city (Makkah) which He has sanctified, so no blood should be shed in it, nor should anyone be oppressed in it, nor should its game be hunted or trees cut. And to Him belongs the authority over everything. I have also been commanded to be from those who submit to Allah in obedience to Him.”

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں

سورة النمل 27:91 · Tlawati