سورہ 27 · پارہ 20

سورة النمل · 27:87

وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ

جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے* مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے**، اور سارے کے سارے عاجز وپست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے.
____________________
* صور سے مراد وہی قرن ہے جس میں اسرافیل (عليه السلام) اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے۔ یہ نفخے دو یا دو سے زیادہ ہوں گے۔ پہلے نفخے (پھونک) میں ساری دنیا گھبرا کر بےہوش اور دوسرے نفخے میں موت سے ہمکنار ہوجائے گی۔ تیسرے نفخے میں سب لوگ قبروں سے زندہ ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے اور بعض کے نزدیک ایک اور چوتھا نفخہ ہوگا جس سے سب لوگ میدان محشر میں اکٹھے ہو جائیں گے۔ یہاں کون سا نفخہ مراد ہے؟ امام ابن کثیر کے نزدیک یہ پہلا نفخہ اور امام شوکانی کے نزدیک تیسرا نفخہ ہے جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔
**- یہ مستثنیٰ لوگ کون ہوں گے۔ بعض کے نزدیک انبیا وشہدا، بعض کے نزدیک فرشتے اور بعض کے نزدیک سب اہل ایمان ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ تمام مذکورین ہی اس میں شامل ہوں کیونکہ اہل ایمان حقیقی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے (جیسا کہ آگے آرہا ہے)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

87. O Messenger, remember: the day in which the angel appointed to blow the trumpet a second time will blow, then everyone in the heavens and everyone on earth will be terrified except whom Allah has excluded from being terrified, as a grace from Him. And all the creation of Allah will come to him on that day, in obedience and with humility.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں