سورہ 27 · پارہ 20
سورة النمل · 27:82
۞ وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ
جب ان کے اوپر عذاب کا وعده ﺛابت ہو جائے گا*، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا** کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے.***
____________________
* یعنی جب نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا نہیں رہ جائے گا۔
**- یہ دابہ وہی ہے جو قرب قیامت کی علامات میں سے ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا (قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو، ان میں ایک جانور کا نکلنا ہے۔ (صحيح مسلم كتاب الفتن، باب في الآيات التي تكون قبل الساعة، والسنن ) دوسری روایت میں ہے (سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہوگی، وہ ہے سورج کا مشرق کی بجائے، مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت جانور کا نکلنا۔ ان دونوں میں سے جو پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے فوراً بعد ہی ظاہر ہو جائے گی (صحيح مسلم، باب في خروج الدجال ومكثه في الأرض)
***- یہ جانور کے نکلنے کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی یہ نشانی اس لیے دکھلائے گا کہ لوگ اللہ کی نشانیوں یا آیتوں (احکام) پر یقین نہیں رکھتے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ جملہ وہ جانور اپنی زبان سے ادا کرے گا۔ تاہم اس جانور کے لوگوں سے کلام کرنے میں تو کوئی شک نہیں کیونکہ قرآن نے اس کی صراحت کی ہے۔
____________________
* یعنی جب نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا نہیں رہ جائے گا۔
**- یہ دابہ وہی ہے جو قرب قیامت کی علامات میں سے ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا (قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو، ان میں ایک جانور کا نکلنا ہے۔ (صحيح مسلم كتاب الفتن، باب في الآيات التي تكون قبل الساعة، والسنن ) دوسری روایت میں ہے (سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہوگی، وہ ہے سورج کا مشرق کی بجائے، مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت جانور کا نکلنا۔ ان دونوں میں سے جو پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے فوراً بعد ہی ظاہر ہو جائے گی (صحيح مسلم، باب في خروج الدجال ومكثه في الأرض)
***- یہ جانور کے نکلنے کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی یہ نشانی اس لیے دکھلائے گا کہ لوگ اللہ کی نشانیوں یا آیتوں (احکام) پر یقین نہیں رکھتے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ جملہ وہ جانور اپنی زبان سے ادا کرے گا۔ تاہم اس جانور کے لوگوں سے کلام کرنے میں تو کوئی شک نہیں کیونکہ قرآن نے اس کی صراحت کی ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
82. When the punishment becomes binding and established for them, due to their disbelief and sins, and the worst of people remain, I shall take out for them near to the Final Hour one of its greatest signs, which is a creature from the earth which will speak to them with what they understand that the people did not believe My verses which were revealed to My Prophet.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں