سورہ 27 · پارہ 20

أمن يجيب المضطر · سورة النمل 27:62

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

بے کس کی پکار کو جب کہ وه پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کر دیتا ہے*؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے**، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو.
____________________
* یعنی وہی اللہ ہے جسے شدائد کے وقت پکارا جاتا اور مصیبتوں کے وقت جس سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں مُضْطَرٌّ (لاچار) اس کی طرف رجوع کرتا اور برائی کو وہی دور کرتا ہے۔ مزید ملاحظہ ہو سورۃ الاسراء: 67، سورۃ النمل: 53۔
**- یعنی ایک امت کے بعد دوسری امت، ایک قوم کے بعد دوسری قوم اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ سب کو ایک ہی وقت میں وجود بخش دیتا تو زمین بھی تنگ دامانی کا شکوہ کرتی، اکتساب معیشت میں بھی دشواریاں پیدا ہوتیں اور یہ سب ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں ہی مصروف وسرگرداں رہتے۔ یعنی یکے بعد دیگرے انسانوں کو پیدا کرنا اور ایک کو دوسرے کا جانشین بنانا، یہ بھی اس کی کمال مہربانی ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

62. Is He not best who responds to the call of the distressed when he calls upon Him, seeking for his harm to be removed, and who removes what the human finds bad such as illness and poverty, and who makes you deputies on earth, succeeding one another generation after generation? Is there a true god alongside Allah who makes all that happen? No. Little do you take heed and consider.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں