سورہ 27 · پارہ 19

سورة النمل · 27:47

قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ ۚ قَالَ طَائِرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ ۖ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ

وه کہنے لگے ہم تو تیری اور تیرے ساتھیوں کی بدشگونی لے رہے* ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے ہاں** ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو.***
____________________
* اطَّيَّرْنَا اصل میں تَطَيَّرْنَا ہے۔ اس کی اصل طیر (اڑنا) ہے۔ عرب جب کسی کام کا یا سفر کا ارادہ کرتے تو پرندے کو اڑاتے اگر وہ دائیں جانب اڑتا تو اسے نیک شگون سمجھتے اور وہ کام کرگزرتے یا سفر پر روانہ ہو جاتے اور اگر بائیں جانب اڑتا تو اسے بدشگونی سمجھتے اور اس کام یا سفر سے رک جاتے (فتح القدیر) اسلام میں یہ بدشگونی اور نیک شگونی جائز نہیں ہے البتہ تفاؤل جائز ہے۔
**- یعنی اہل ایمان نحوست کا باعث نہیں ہیں جیسا کہ تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا اصل سبب اللہ ہی کے پاس ہے، کیونکہ قضا و تقدیر اسی کےاختیار میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں جونحوست (قحط وغیرہ) پہنچی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کا سبب تمہارا کفر ہے۔ (فتح القدیر)۔
***- یا گمراہی میں ڈھیل دے کر تمہیں آزمایا جائے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

47. His people said to him, in stubbornness from the truth: “I consider you and the believers with you a bad omen”. Salih (peace be upon him) said: “The birds that you drive away due to the difficulties that which has afflicted you from what you dislike and you attribute as a bad omen is actually decreed from Allah and He has knowledge of that.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں