سورہ 27 · پارہ 19

سورة النمل · 27:39

قَالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ

ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے* اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس ﻻدیتا** ہوں، یقین مانیے کہ میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانت دار.***
____________________
* اس سے وہ مجلس مراد ہے، جو مقدمات کی سماعت کے لیے حضرت سلیمان (عليه السلام) صبح سے نصف النہار تک منعقد فرماتے تھے۔
**- اس سےمعلوم ہوا کہ وہ یقیناً ایک جن ہی تھا جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مقابلے میں غیر معمولی قوتوں سے نوازا ہے. کیونکہ کسی انسان کے لیے چاہے وہ کتنا ہی زور آور ہو، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ بیت المقدس سے مآرب یمن (سبا) جائے اور پھر وہاں سے تخت شاہی اٹھالائے۔ اور ڈیڑھ ہزار میل کا یہ فاصلہ جسے دو طرفہ شمار کیا جائے تو تین ہزار میل بنتا ہے، 4،3 گھنٹے میں طے کرلے۔ ایک طاقت ور سے طاقت ور انسان بھی اول تو اتنے بڑے تخت کو اٹھا ہی نہیں سکتا اور اگر وہ مختلف لوگوں یا چیزوں کا سہارا لے کر اٹھوا بھی لے تو اتنی قلیل مدت میں اتنا سفر کیوں کر ممکن ہے۔
***- یعنی میں اسے اٹھا کر لا بھی سکتا ہوں اور اس کی کسی چیز میں ہیرا پھیری بھی نہیں کروں گا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

39. A rebellious jinn replied saying: “I shall bring her throne to you before you stand from the gathering you are in. I am strong enough to carry it, and can be trusted on what it contains, so I will not take anything of it”.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں