سورہ 27 · پارہ 19

سورة النمل · 27:36

فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا آتَاكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ

پس جب قاصد حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا کیا تم مال سے مجھے مدد دینا چاہتے ہو*؟ مجھے تو میرے رب نے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے پس تم ہی اپنے تحفے سے خوش رہو.**
____________________
* یعنی تم دیکھ نہیں رہے، کہ اللہ نے مجھے ہر چیز سے نوازا ہوا ہے۔ پھر تم اپنے اس ہدیے سے میرے مال و دولت میں کیا اضافہ کرسکتے ہو؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔
**- یہ بطور توبیخ کے کہاکہ تم ہی اس ہدیے پر فخر کرو اور خوش ہو، میں تو اس سے خوش ہونے سے رہا، اس لیے کہ ایک تو دنیا میرا مقصود ہی نہیں ہے۔ دوسرے اللہ نے مجھے وہ کچھ دیا ہے جو پورے جہان میں کسی کو نہیں دیا۔ تیسرے، مجھے نبوت سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

36. So when her messenger and his helpers who were with him came carrying the present to Solomon, he criticised them for sending the present, saying: “Are you providing me with wealth to turn me away from you? The prophethood, kingdom and wealth Allah has given me is better than what He has given you. In fact, it is you who are rejoicing on the short-term riches of the world you have been given”.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں