سورہ 23 · پارہ 18
سورة المؤمنون · 23:66
قَدْ كَانَتْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ
میری آیتیں تو تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں* پھر بھی تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے.**
____________________
* یعنی قرآن مجید یا کلام الٰہی، جن میں پیغمبر کے فرمودات بھی شامل ہیں۔
**- نکوص کے معنی ہیں "رجعت قھقری" (الٹے پاؤں لوٹنا) لیکن بطور استعارہ اعراض اور روگردانی کے معنی و مفہوم میں استمعمال ہوتا ہے۔ یعنی آیات و احکام الٰہی سن کر تم منہ پھیر لیتے تھے اور ان سے بھا گتے تھے۔
____________________
* یعنی قرآن مجید یا کلام الٰہی، جن میں پیغمبر کے فرمودات بھی شامل ہیں۔
**- نکوص کے معنی ہیں "رجعت قھقری" (الٹے پاؤں لوٹنا) لیکن بطور استعارہ اعراض اور روگردانی کے معنی و مفہوم میں استمعمال ہوتا ہے۔ یعنی آیات و احکام الٰہی سن کر تم منہ پھیر لیتے تھے اور ان سے بھا گتے تھے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
66. Verily, the verses of Allah would be recited to you in the world, but you would turn away from them when you heard them, in hatred for them.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں