سورہ 22 · پارہ 17

سورة الحج · 22:9

ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۖ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَنُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابَ الْحَرِيقِ

جو اپنی پہلو موڑنے واﻻ بن کر* اس لئے کہ اللہ کی راه سے بہکادے، اسے دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے.
____________________
* ثانی اسم فاعل ہے موڑنے والا عطف کے معنی پہلو کے ہیں یہ یجادل سے حال ہے اس میں اس شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو بغیر کسی عقلی اور نقلی دلیل کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے کہ وہ تکبر اور اعراض کرتے ہوئے اپنی گردن موڑتے ہوئے پھرتا ہے جیسے دوسرے مقامات پر اس کیفیت کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔«وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا» (لقمان:7) «لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ» (المنافقون:5) «اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ» (الاسراء:83)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

9. Turning his neck in arrogance, to turn people away from faith and entering the religion of Allah. He who fits this description shall have disgrace in this world due to the punishment which will befall him, and I shall make him taste the punishment of the burning fire in the Hearafter.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں