سورہ 22 · پارہ 17
سورة الحج · 22:70
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے.*
____________________
* اس میں اللہ تعالٰی نے اپنے کمال علم اور مخلوقات کے احاطے کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی اس کی مخلوقات کو جو جو کچھ کرنا تھا، اس کو علم پہلے سے ہی تھا، وہ ان کو جانتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے علم سے یہ باتیں پہلے ہی لکھ دیں۔ اور لوگوں کو یہ بات چاہے، کتنی ہی مشکل معلوم ہو، اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔ یہ وہی تقدیر کا مسئلہ ہے، اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے، جسے حدیث میں اس طرح بیان فرمایا گیا ”اللہ تعالٰی آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے، جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا، مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں“۔ (صحيح مسلم، كتاب القدر، باب حجاج آدم وموسى) اور سنن کی روایت ہے۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے قلم پیدا فرمایا، اور اس کو کہا ”لکھ“ اس نے کہا، کیا لکھوں؟ اللہ تعالٰی نے فرمایا، جو کچھ ہونے والا ہے، سب لکھ دے۔ چنانچہ اس نے اللہ کے حکم سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا، سب لکھ دیا“۔ (أبو داود كتاب السنة، باب في القدر، ترمذي أبواب القدر وتفسير سورة ن، مسند أحمد 5 /317)
____________________
* اس میں اللہ تعالٰی نے اپنے کمال علم اور مخلوقات کے احاطے کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی اس کی مخلوقات کو جو جو کچھ کرنا تھا، اس کو علم پہلے سے ہی تھا، وہ ان کو جانتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے علم سے یہ باتیں پہلے ہی لکھ دیں۔ اور لوگوں کو یہ بات چاہے، کتنی ہی مشکل معلوم ہو، اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔ یہ وہی تقدیر کا مسئلہ ہے، اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے، جسے حدیث میں اس طرح بیان فرمایا گیا ”اللہ تعالٰی آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے، جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا، مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں“۔ (صحيح مسلم، كتاب القدر، باب حجاج آدم وموسى) اور سنن کی روایت ہے۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے قلم پیدا فرمایا، اور اس کو کہا ”لکھ“ اس نے کہا، کیا لکھوں؟ اللہ تعالٰی نے فرمایا، جو کچھ ہونے والا ہے، سب لکھ دے۔ چنانچہ اس نے اللہ کے حکم سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا، سب لکھ دیا“۔ (أبو داود كتاب السنة، باب في القدر، ترمذي أبواب القدر وتفسير سورة ن، مسند أحمد 5 /317)
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
70. O Messenger! Do you not know that Allah knows all that is in the heavens and on Earth; nothing is hidden from Him, and His knowledge of it is recorded in the Preserved Tablet. Encompassing the knowledge of it all is very easy for Allah.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں