سورہ 22 · پارہ 17

سورة الحج · 22:33

لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ

ان میں تمہارے لئے ایک مقرر وقت تک فائده ہے* پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ خانہ کعبہ ہے.**
____________________
* وہ فائدہ، سواری، دودھ، مزید نسل اور اون وغیرہ کا حصول ہے۔ وقت مقرر مراد (ذبح کرنا) ہے یعنی ذبح نہ ہونے تک تمہیں ان سے مذکورہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور سے، جب تک وہ ذبح نہ ہو جائے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ صحیح حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ایک آدمی ایک قربانی کا جانور اپنے ساتھ ہانکے لے جا رہا تھا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اس سے فرمایا اس پر سوار ہو جا، اس نے کہا یہ حج کی قربانی ہے، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، اس پر سوار ہو جا۔ (صحيح بخاري، كتاب الحج، باب ركوب البدن)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

33. For you in the sacrificial animals that you slaughter at the House are benefits, such as riding, wool, procreation, milk, until a limited time to the time of their slaughter near the House of Allah which He freed from the control of tyrants.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں

سورة الحج 22:33 · Tlawati