سورہ 22 · پارہ 17

سورة الحج · 22:29

ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ

پھر وه اپنا میل کچیل دور کریں* اور اپنی نذریں پوری کریں** اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں.***
____________________
* یعنی10 ذوالحجہ کو جمرہ کبریٰ (یا جمرہ عقبہ) کو کنکریاں مارنے کے بعد حاجی تحلل اول (یا تحلّل اصغر) حاصل ہو جاتا ہے، جس کے بعد وہ احرام کھول دیتا ہے اور بیوی سے مباشرت کے سوا، دیگر وہ تمام کام اس کے لئے جائز ہو جاتے ہیں، جو حالت احرام میں ممنوع ہوتے ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہی ہے کہ پھر وہ بالو، ناخنوں وغیرہ کو صاف کرلے، تیل خوشبو استعمال کرے اور سلے ہوئے کپڑے پہن لے وغیرہ۔
**- اگر کوئی مانی ہوئی ہو، جیسے لوگ مان لیتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے مقدس گھر کی زیارت نصیب فرمائی، تو ہم فلاں نیکی کا کام کریں گے۔
***- عتیق کے معنی قدیم کے ہیں مراد خانہ کعبہ ہے کہ حلق یا تقصیر کے بعد افاضہ کرلے، جسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں، اور یہ حج کا رکن ہے جو وقوف عرفہ اور جمرہ عقبہ (یا جمرہ کبرٰی) کو کنکریاں مارنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ جب کہ طواف قدوم بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک سنت ہے اور طواف وداع سنت مؤکدہ (یا واجب) ہے۔ جو اکثر اہل علم کے نزدیک عذر سے ساقط ہو جاتا ہے، جیسے حائضہ عورت سے بالاتفاق ساقط ہو جاتا ہے (ایسر التفاسیر)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

29. Then they should complete what remains of their Hajj rites, coming out of ihraam by shaving their heads, clipping their nails, and removing the dirt which has accumulated on them due to ihraam, and fulfil the Hajj, Umrah or sacrificial animal they made binding on themselves. They should perform the Tawaaf Ifadah of the House which Allah freed from the control of tyrants.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں