سورہ 22 · پارہ 17

سورة الحج · 22:17

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَىٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ

بیشک اہل ایمان اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی* اور مشرکین** ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فیصلے کر دے گا***، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواه ہے.****
____________________
* مجوس سے مراد ایران کے آتش پرست ہیں جو دو خداؤں کے قائل ہیں، ایک ظلمت کا خالق ہے، دوسرا نور کا، جسے وہ اہرمن اور یزداں کہتے ہیں۔
**- ان میں مذکورہ گمراہ فرقوں کے علاوہ جتنے بھی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والے ہیں، سب آگئے۔
***- ان میں سے حق پر کون ہے، باطل پر کون، یہ تو ان دلائل سے واضح ہو جاتا ہے جو اللہ اپنے قرآن میں نازل فرماتے ہیں اور اپنے آخری پیغمبر کو بھی اسی مقصد کے لئے بھیجا تھا، «لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ» (الفتح:28) یہاں فیصلے سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالٰی باطل پرستوں کو قیامت والے دن دے گا، اس سزا سے بھی واضح ہو جائے گا کہ دنیا میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون کون۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

17. Those who have faith in Allah, and they are: the believers from this nation, the Jews, the Sabians (a group of followers of one of the prophets), the Christians, the Magians (fire-worshippers), the idolaters; Allah will judge between them on the Day of Judgment, then He will enter the believers amongst them into paradise and enter others into hellfire. Allah is a Witness to all the sayings and actions of His servants, with nothing being hidden from Him, and He shall reward them for these actions.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں

سورة الحج 22:17 · Tlawati