سورہ 22 · پارہ 17
سورة الحج · 22:13
يَدْعُو لَمَنْ ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِنْ نَفْعِهِ ۚ لَبِئْسَ الْمَوْلَىٰ وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ
اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیاده قریب ہے، یقیناً برے والی ہیں اور برے ساتھی.*
____________________
* بعض مفسرین کے نزدیک یدعو، یقول کے معنی میں ہے۔ یعنی غیر اللہ کا پجاری قیامت والے دن کہے گا کہ جس کا نقصان، اس کے نفع کے قریب تر ہے، وہ والی اور ساتھی یقینا برا ہے۔ یعنی اپنے معبودوں کے بارے یہ کہے گا کہ وہاں اس کے امیدوں کے محل ڈھے جائیں گے اور یہ معبود، جن کی بات اس کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے عذاب سے اس بچائیں گے، اس کی شفاعت کریں گے، وہاں خود وہ معبود بھی، اس کے ساتھ ہی جہنم کا ایندھن بنے ہونگے۔ مولیٰ کے معنی ولی اور مددگار کے اور عشیر کےمعنی ہم نشین، ساتھی اور قرابت دار کے ہیں۔ مددگار اور ساتھی تو وہ ہوتا ہے جو مصیبت کے وقت کام آئے، لیکن یہ معبود خود گرفتار عذاب ہوں گے یہ کسی کے کیا کام آئیں گے؟ اس لئے انہیں برا والی اور برا ساتھی کہا گیا۔ ان کی عبادت ضرر ہی ضرر ہے، نفع کا تو اس میں کوئی حصہ ہی نہیں ہے، پھر یہ جو کہا گیا ہے کہ ان کا نقصان، ان کے نفع سے قریب تر ہے، تو ی ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا گیا:«وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ» (سبا:24) ”بےشک ہم (یعنی اللہ کے ماننے والے) یا تم (اس کا انکار کرنے والے) ہدایت پر ہیں، یا کھلی گمراہی میں“۔ ظاہر بات ہے کہ ہدایت پر وہی ہیں جو اللہ کو ماننے والے ہیں۔ لیکن اسے واضح الفاظ میں کہنے کی بجائے کنائے اور استفہام کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جو سامع کے لئے زیادہ موثر اور بلیغ ہوتا ہے۔ یا اس کا تعلق دنیا سے ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ غیر اللہ کو پکارنے سے فوری نقصان تو اس کا ہوا کہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا، یہ قریب نقصان ہے۔ اور آخرت میں تو اس کا نقصان تحقیق شدہ ہی ہے۔
____________________
* بعض مفسرین کے نزدیک یدعو، یقول کے معنی میں ہے۔ یعنی غیر اللہ کا پجاری قیامت والے دن کہے گا کہ جس کا نقصان، اس کے نفع کے قریب تر ہے، وہ والی اور ساتھی یقینا برا ہے۔ یعنی اپنے معبودوں کے بارے یہ کہے گا کہ وہاں اس کے امیدوں کے محل ڈھے جائیں گے اور یہ معبود، جن کی بات اس کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے عذاب سے اس بچائیں گے، اس کی شفاعت کریں گے، وہاں خود وہ معبود بھی، اس کے ساتھ ہی جہنم کا ایندھن بنے ہونگے۔ مولیٰ کے معنی ولی اور مددگار کے اور عشیر کےمعنی ہم نشین، ساتھی اور قرابت دار کے ہیں۔ مددگار اور ساتھی تو وہ ہوتا ہے جو مصیبت کے وقت کام آئے، لیکن یہ معبود خود گرفتار عذاب ہوں گے یہ کسی کے کیا کام آئیں گے؟ اس لئے انہیں برا والی اور برا ساتھی کہا گیا۔ ان کی عبادت ضرر ہی ضرر ہے، نفع کا تو اس میں کوئی حصہ ہی نہیں ہے، پھر یہ جو کہا گیا ہے کہ ان کا نقصان، ان کے نفع سے قریب تر ہے، تو ی ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا گیا:«وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ» (سبا:24) ”بےشک ہم (یعنی اللہ کے ماننے والے) یا تم (اس کا انکار کرنے والے) ہدایت پر ہیں، یا کھلی گمراہی میں“۔ ظاہر بات ہے کہ ہدایت پر وہی ہیں جو اللہ کو ماننے والے ہیں۔ لیکن اسے واضح الفاظ میں کہنے کی بجائے کنائے اور استفہام کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جو سامع کے لئے زیادہ موثر اور بلیغ ہوتا ہے۔ یا اس کا تعلق دنیا سے ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ غیر اللہ کو پکارنے سے فوری نقصان تو اس کا ہوا کہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا، یہ قریب نقصان ہے۔ اور آخرت میں تو اس کا نقصان تحقیق شدہ ہی ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
13. This disbeliever who worships idols calls upon the one whose confirmed harm is closer than his absent benefit. Bad is the deity whose harm is closer than his benefit. Bad is it as a helper to one who seeks its help, and as a companion to who accompanies it.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں