سورہ 2 · پارہ 1

سورة البقرة · 2:49

وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ

اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں* سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے جو تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی۔
____________________
*آل فرعون سے مراد صرف فرعون اور اس کے اہل خانہ ہی نہیں، بلکہ فرعون کے تمام پیروکار ہیں۔ جیسا کہ آگے: «وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْن» ہے ”ہم نے آل فرعون کو غرق کردیا“ یہ غرق ہونے والے فرعون کے گھر والے ہی نہیں تھے، اس کے فوجی اور دیگر پیروکار تھے۔ گویا قرآن میں «آل» مُتَّبِعِينَ (پیروکاروں) کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، اس کی مزید تفصیل الاحزاب میں ان شاء اللہ آئے گی۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

49. O Israelites! Remember when Allah saved you from the people of Pharaoh, who were tormenting you, slaughtering your sons so you would not survive, and letting your women live so they could serve them, taking great pains to humiliate and insult you. When you were saved from the oppression of Pharaoh and his people, it was a great test for you from your Lord, to see if you would be thankful.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں