سورہ 2 · پارہ 3

سورة البقرة · 2:272

۞ لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۗ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ۚ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا*، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔
____________________
* تفسیری روایات میں اس کی شان نزول یہ بیان کی گئی ہے کہ مسلمان اپنے مشرک رشتے داروں کی مدد کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہدایت کے راستے پر لگا دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ تم لوجہ اللہ جو بھی خرچ کرو گے، اس کا پورا اجر ملے گا جس سے یہ معلوم ہوا کہ غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی کرنا باعث اجر ہے۔ تاہم زکٰوۃ صرف مسلمانوں کا حق ہے یہ کسی غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

272. O Prophet, you are not responsible for making them believe in the truth and submitting to it: your duty is to guide them to the truth and explain it to them. It is only Allah Who can bring them to the truth; and He guides whomever He wishes. The benefit of any good you spend comes back to you; Allah is in no need of it. So, let your spending be only for Allah’s sake: true believers spend only for Allah’s pleasure. You will receive the full reward for any good you spend, no matter how little, because Allah does not wrong anyone.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں