سورہ 2 · پارہ 2

سورة البقرة · 2:227

وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اور اگر طلاق کا ہی قصد کرلیں* تو اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔
____________________
* ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرتے ہی از خود طلاق واقع نہیں ہوگی (جیسا کہ بعض علما کا مسلک ہے) بلکہ خاوند کے طلاق دینے سے طلاق ہوگی، جس پر اسے عدالت بھی مجبور کرے گی۔ جیسا کہ جمہور علما کا مسلک ہے۔ (ابن کثیر )

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

227. If such a man is determined to continue his oath and so passes the four months period, intending by that a divorce, then Allah hears their statements, including the divorce, and He knows their states and intentions and will reward them for that.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں