سورہ 2 · پارہ 1
سورة البقرة · 2:121
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے* اور وه اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں**، وه اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وه نقصان واﻻ ہے۔***
____________________
*اہل کتاب کے ناخلف لوگوں کے مذموم اخلاق وکردار کی ضروری تفصیل کے بعد ان میں جو لوگ کچھ صالح اور اچھے کردار کے تھے، اس آیت میں ان کی خوبیاں، اور ان کے مومن ہونے کی خبر دی جارہی ہے۔ ان میں عبداللہ بن سلام (رضي الله عنه) اور ان جیسے دیگر افراد ہیں، جن کو یہودیوں میں سے قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوئی۔
**- (وہ اس طرح پڑھتے ہیں، جس طرح پڑھنے کا حق ہے)۔ کے کئی مطلب بیان کئے گئے ہیں۔ مثلاً خوب توجہ اور غور سے پڑھتے ہیں۔ جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے اور جہنم کا ذکر آتا ہے تو اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس کے حلال کو حلال، حرام کو حرام سمجھتے اور کلام الٰہی میں تحریف نہیں کرتے (جیسے دوسرے یہودی کرتے تھے)۔ اس میں جو کچھ تحریر ہے، لوگوں کو بتلاتے ہیں، اس کی کوئی بات چھپاتے نہیں۔ اس کی محکم باتوں پر عمل کرتے، متشابہات پر ایمان رکھتے اور جو باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، انہیں علما سے حل کراتے ہیں اس کی ایک ایک بات کا اتباع کرتے ہیں (فتح القدیر) واقعہ یہ ہے کہ حق تلاوت میں یہ سارے ہی مفہوم داخل ہیں اور ہدایت ایسے ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو مذکورہ باتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔
***- اہل کتاب میں سے جو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان نہیں لائے گا، وہ جہنم میں جائے گا۔ كَمَا فِي الصَّحِيحِ (ابن کثیر)
____________________
*اہل کتاب کے ناخلف لوگوں کے مذموم اخلاق وکردار کی ضروری تفصیل کے بعد ان میں جو لوگ کچھ صالح اور اچھے کردار کے تھے، اس آیت میں ان کی خوبیاں، اور ان کے مومن ہونے کی خبر دی جارہی ہے۔ ان میں عبداللہ بن سلام (رضي الله عنه) اور ان جیسے دیگر افراد ہیں، جن کو یہودیوں میں سے قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوئی۔
**- (وہ اس طرح پڑھتے ہیں، جس طرح پڑھنے کا حق ہے)۔ کے کئی مطلب بیان کئے گئے ہیں۔ مثلاً خوب توجہ اور غور سے پڑھتے ہیں۔ جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے اور جہنم کا ذکر آتا ہے تو اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس کے حلال کو حلال، حرام کو حرام سمجھتے اور کلام الٰہی میں تحریف نہیں کرتے (جیسے دوسرے یہودی کرتے تھے)۔ اس میں جو کچھ تحریر ہے، لوگوں کو بتلاتے ہیں، اس کی کوئی بات چھپاتے نہیں۔ اس کی محکم باتوں پر عمل کرتے، متشابہات پر ایمان رکھتے اور جو باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، انہیں علما سے حل کراتے ہیں اس کی ایک ایک بات کا اتباع کرتے ہیں (فتح القدیر) واقعہ یہ ہے کہ حق تلاوت میں یہ سارے ہی مفہوم داخل ہیں اور ہدایت ایسے ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو مذکورہ باتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔
***- اہل کتاب میں سے جو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان نہیں لائے گا، وہ جہنم میں جائے گا۔ كَمَا فِي الصَّحِيحِ (ابن کثیر)
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
121. The Qur’ān mentions a group from the People of the Scripture who know the revealed texts they have been given and follow them properly. They find in these scriptures signs pointing to the truth of the Prophet Muhammad (peace be upon him); and because of this they immediately have faith in him. Another group sticks to its disbelief, and for them is loss.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں