سورہ 2 · پارہ 1
سورة البقرة · 2:12
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِنْ لَا يَشْعُرُونَ
خبردار ہو! یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں*، لیکن شعور (سمجھ) نہیں رکھتے۔
____________________
*فَسَاد، صَلاحٌ، کی ضد ہے، کفرومعصیت سے زمین میں فساد پھیلتا ہے اور اطاعت الٰہی سے امن وسکون ملتا ہے۔ ہر دور کے منافقین کا کردار یہی رہا ہے کہ پھیلاتے وہ فساد ہیں، اشاعت وہ منکرات کی کرتے ہیں اور پامال حدود الٰہی کو کرتے ہیں اور سمجھتے یا دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ اصلاح وترقی کے لئے کوشاں ہیں۔
____________________
*فَسَاد، صَلاحٌ، کی ضد ہے، کفرومعصیت سے زمین میں فساد پھیلتا ہے اور اطاعت الٰہی سے امن وسکون ملتا ہے۔ ہر دور کے منافقین کا کردار یہی رہا ہے کہ پھیلاتے وہ فساد ہیں، اشاعت وہ منکرات کی کرتے ہیں اور پامال حدود الٰہی کو کرتے ہیں اور سمجھتے یا دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ اصلاح وترقی کے لئے کوشاں ہیں۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
12. The truth is that it is they who ruin things, but they do not admit this, nor do they know that their actions are the cause of all ruin.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں