سورہ 2 · پارہ 1
سورة البقرة · 2:108
أَمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِنْ قَبْلُ ۗ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ
کیا تم اپنے رسول سے یہی پوچھنا چاہتے ہو جو اس سے پہلے موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے پوچھا گیا تھا؟* (سنو) ایمان کو کفر سے بدلنے واﻻ سیدھی راه سے بھٹک جاتا ہے۔
____________________
*مسلمانوں (صحابہ (رضي الله عنهم) ) کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم یہودیوں کی طرح اپنے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) سے از راہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کیا کرو۔ اس میں اندیشۂ کفر ہے۔
____________________
*مسلمانوں (صحابہ (رضي الله عنهم) ) کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم یہودیوں کی طرح اپنے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) سے از راہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کیا کرو۔ اس میں اندیشۂ کفر ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
108. O believers, it is not right for you to question your Prophet, resisting and quarrelling with the revelation as the people of Moses questioned their prophet before, like when they said, ‘Show us Allah openly’ [ Sūrah Al-Nisā’: 153]. Whoever exchanges faith for disbelief has lost the balanced way, the right path.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں