سورہ 19 · پارہ 16

سورة مريم · 19:47

قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا

کہا اچھا تم پر سلام ہو*، میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا**، وه مجھ پر حد درجہ مہربان ہے.
____________________
* یہ سلام تحیہ نہیں ہے جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کرتا ہے بلکہ ترک مخاطب کا اظہار ہے جیسے «وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلامًا» (الفرقان:63)”جب بےعلم لوگ ان سے باتیں کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے“، اس میں اہل ایمان اور بندگان الٰہی کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔
**- یہ اس وقت کہا جب حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو مشرک کے لئے مغفرت کی دعا کرنے کی ممانعت کا علم نہیں تھا، جب یہ علم ہوا تو آپ نے دعا کا سلسلہ موقوف کر دیا (التوبہ:114)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

47. Abraham (peace be upon him) said to his father: “Greetings of peace to you from me. You will not face from me what you dislike. I shall seek forgiveness and guidance from my Lord for you. He is very kind to me.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں