سورہ 19 · پارہ 16

سورة مريم · 19:37

فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ مَشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ

پھر یہ فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے*، پس کافروں کے لئے ویل ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے.**
____________________
* یہاں الاحزاب سے مراد کتاب کے فرقے اور خود عیسائیوں کے فرقے ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں باہم اختلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ وہ جادوگر اور(نعوذ باللہ) ولد الزنا یعنی یوسف نجار کے بیٹے ہیں۔ نصاریٰ کے نسطوریہ فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہیں۔ ملکیہ یا سلطانیہ (کیتھولک) فرقے نے کہا وہ ثَالِثُ ثَلاثَةٍ (تین خداؤں میں سے تیسرے) ہیں اور تیسرے فرقے یعقوبیہ (آرتھوڈکس) نے کہا، وہ اللہ ہیں۔ پس یہودیوں نے تفریط اور تقصیر کی عیسائیوں نے افراط وغلو (الیسرا لتفاسیر، فتح القدیر)
**- ان کافروں کے لئے جنہوں نے عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں اس طرح اختلاف اور افراط کا ارتکاب کیا، قیامت والے دن جب وہاں حاضر ہوں گے، ہلاکت ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

37. But the factions of Jews and Christians differed regarding the matter of Jesus (peace be upon him). The Jews said about him that he is a magician. Some Christians said about him that he is the son of Allah. Woe to those who differ regarding him, from witnessing the great Day of Judgment, due to its scenes, reckoning and punishment.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں