سورہ 18 · پارہ 15

سورة الكهف · 18:55

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا

لوگوں کے پاس ہدایت آچکنے کے بعد انہیں ایمان ﻻنے اور اپنے رب سے استغفار کرنے سے صرف اسی چیز نے روکا کہ اگلے لوگوں کا سا معاملہ انہیں بھی پیش آئے* یا ان کے سامنے کھلم کھلا عذاب آموجود ہوجائے.**
____________________
* یعنی تکذیب کی صورت میں ان پر بھی اسی طرح عذاب آئے، جیسے پہلے لوگوں پر آیا۔
**- یعنی اہل مکہ ایمان لانے کے لئے ان دو باتوں میں سے کسی ایک کے منتظر ہیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو یہ پتہ نہیں کہ اس کے بعد ایمان کی کوئی حیثیت ہی نہیں یا اس کے بعد ایمان لانے کا ان کو موقع ہی کب ملے گا؟۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

55. Nothing prevented the obstinate disbelievers from having faith in what Muhammad (peace be upon him) brought from his Lord. Lack of explanation did not prevent them from seeking Allah’s forgiveness for their sins, for many examples were given to them in the Qur’ān and clear proofs came to them. The only thing that prevented them was their stubborn request for the punishment of the previous communities to be imposed on them and for them to see the punishment that they were promised.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں