سورہ 18 · پارہ 15

سورة الكهف · 18:46

الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا

مال واوﻻد تو دنیا کی ہی زینت ہے*، اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں** تیرے رب کے نزدیک از روئے ﺛواب اور (آئنده کی) اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں.
____________________
* اس میں ان اہل ایمان دنیا کا رد ہے جو دنیا کے مال اسباب، قبیلہ اور خاندان اور آل اولاد پر فخر کرتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: یہ چیزیں تو دنیا فانی کی عارضی زینت ہیں۔ آخرت میں یہ چیزیں کچھ کام نہیں آئیں گی۔ اسی لئے اسے آگے فرمایا کہ آخرت میں کام آنے والے عمل وہ ہیں جو باقی رہنے والے ہیں۔
**- باقیات صالحات (باقی رہنے والی نییکیاں) کون سی یا کون کون سی ہیں؟ کسی نے نماز کو، کسی نے تحمید و تسبیح اور تکبیر و تہلیل کو اور کسی نے اعمال خیر کو مصداق قرار دیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ عام ہے اور تمام نیکیوں کو شامل ہے۔ تمام فرائض وواجبات اور سنن و نوافل سب باقیات صالحات ہیں بلکہ برے کاموں سے اجتناب بھی ایک عمل صالح ہے، جس پر عند اللہ اجر و ثواب کی امید ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

46. Wealth and children are things of adornment in this worldly life. Wealth will only be of benefit in the afterlife if it is spent on that which pleases Allah. Actions and statements that are pleasing to Allah are better in reward than all the beauty in the world. That is the best thing a person can have hope in, because the beauty of the world will perish while the reward for actions and statements that are pleasing to Allah will last.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں