سورہ 17 · پارہ 15

سورة الإسراء · 17:85

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دے دیجئیے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے.*
____________________
* روح وہ لطیف شے ہے جو کسی کو نظر نہیں آتی لیکن ہر جاندار کی قوت و توانائی اسی روح کے اندر مضمر ہے اس کی حقیقت و ماہیت کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ یہودیوں نے بھی ایک مرتبہ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے اس کی بابت پوچھا تو یہ آیت اتری ( صحيح بخاري، تفسير سورة بني إسرائيل ومسلم، كتاب صفة القيامة والجنة- والنار، باب سؤال اليهود النبي صلى الله عليه وسلم عن الروح ) آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا علم، اللہ کے علم کے مقابلے میں قلیل ہے، اور یہ روح، جس کے بارے میں تم سے پوچھ رہے ہو، اس کا علم تو اللہ نے انبیاء سمیت کسی کو بھی نہیں دیا ہے اتنا سمجھو کہ یہ میرے رب کا امر (حکم) ہے۔ یا میرے رب کی شان میں سے ہے، جس کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

85. O Messenger, the disbelievers among the People of the Book ask you regarding the reality of the soul. Say to them: The soul is from the command of my Lord. And the knowledge you and all the creation of Allah have been granted is little in comparison to the knowledge of Allah.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں