سورہ 17 · پارہ 15

سورة الإسراء · 17:36

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا

جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ*۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے.**
____________________
* قَفَا يَقْفُوکے معنی ہیں پیچھے لگنا، یعنی جس چیز کا علم نہیں، اس کے پیچھے مت لگو، یعنی بدگمانی مت کرو، کسی کی ٹوہ میں مت رہو، اسی طرح جس چیز کا علم نہیں، اس پر عمل مت کرو۔
**- یعنی جس چیز کے پیچھے تم پڑو گے اس کے متعلق کان سے سوال ہوگا کہ کیا اس نے سنا تھا، آنکھ سے سوال ہوگا کیا اس نے دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کیا اس نے جانا تھا؟ کیونکہ یہی تینوں علم کا ذریعہ ہیں۔ یعنی ان اعضا کو اللہ تعالٰی قیامت والے دن قوت گویائی عطا فرمائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

36. Do not follow - O son of Adam - that which you have no knowledge of, by following suspicions and conjecture. A person will be questioned about the good or bad that he used his hearing, sight and heart for and he will rewarded for the good and punished for the bad.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں