سورہ 17 · پارہ 15

سورة الإسراء · 17:11

وَيَدْعُ الْإِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ ۖ وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا

اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح، انسان ہے ہی بڑا جلد باز.*
____________________
* انسان چونکہ جلد باز اور بے حوصلہ ہے اس لیے جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنی ہلاکت کے لیے اسی طرح بد دعا کرتا ہے جس طرح بھلائی کے لیے اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے یہ تو رب کا فضل و کرم ہے کہ وہ اس کی بد دعاؤں کو قبول نہیں کرتا یہی مضمون سورۂ یونس آیت 11 میں گزر چکا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

11. Man on account of his ignorance prays for evil against himself, his children and his wealth when he is angry, just as he prays for good for himself. If we had to answer his prayer for evil he will be ruined and so will his children and his wealth. Human beings are naturally hasty and therefore may hastily bring on something that is harmful.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں