سورہ 16 · پارہ 14

سورة النحل · 16:84

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواه کھڑا کریں گے* پھر کافروں کو نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا.
____________________
* یعنی ہر امت پر اس امت کا پیغمبر گواہی دے گا کہ انہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی ان کافروں کو عذر پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی، اس لئے کہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی عذر یا حجت ہوگی ہی نہیں۔ نہ ان سے رجوع یا عتاب دور کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی ضرورت بھی اس وقت پیش آتی ہے جب کسی کو گنجائش دینا مقصود ہو، لا يُسْتَعْتَبُونَ کےایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ موقع تو دنیا میں دیا جا چکا ہے جو دارالعمل ہے۔ آخرت تو دارعمل نہیں، وہ تو دارالجزا ہے، وہاں تو اس چیز کا بدلہ ملے گا جو انسان دنیا سے کر کے گیا ہو گا، وہاں کچھ کرنے کا موقع کسی کو نہیں ملے گا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

84. Remember, O Messenger, the Day when Allah will raise up from every nation their Messenger who was sent to them to give testimony of the faith of those who believed and the rejection of those who disbelieved. Thereafter those who disbelieved will not be allowed to present an excuse for their rejection and they will not be returned to the world to do actions pleasing to their Lord, as the afterlife is the place of reckoning and not the place of action.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں