سورہ 16 · پارہ 14

سورة النحل · 16:59

يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ

اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آه! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟*
____________________
* یعنی لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کا تو یہ حال ہوتا ہے جو مذکور ہوا، اور اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ کیسا برا یہ فیصلہ کرتے ہیں، یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالٰی بھی لڑکوں کے مقابلے میں لڑکی کو حقیر اور کم تر سمجھتا ہے، نہیں اللہ کے نزدیک لڑکے اور لڑکی میں کوئی تمیز نہیں ہے، نہ جنس کی نبیاد پر حقارت اور برتری کا تصور اس کے ہاں ہے۔ یہاں تو صرف عربوں کی اس نا انصافی اور سراسر غیر معقول رویے کی وضاحت مقصود ہے، جو انہوں نے اللہ کے ساتھ اختیار کیا تھا، درآں حالیکہ اللہ کی برتری اور فوقیت کے وہ بھی قائل تھے۔ جس کا منطقی نتیجہ تو یہ تھا کہ جو چیز یہ اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اللہ کے لیے بھی اسے تجویز نہ کرتے لیکن انہوں نے اس کے برعکس کیا۔ یہاں صرف اسی نا انصافی کی وضاحت کی گئی ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

59. He hides from his people because of the bad news of the birth of a girl that was given to him. He asks himself: Shall he keep this girl that he was given news of with humiliation and dejection, or shall he bury her alive and hide her in the dust? How evil is the decision that the idolaters make when they assigned to their Lord what they detest for themselves.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں