سورہ 16 · پارہ 14
سورة النحل · 16:53
وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ
تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں*، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو.**
____________________
* جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟
**- اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب ووجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آ جاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہو جاتے ہیں۔
____________________
* جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟
**- اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب ووجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آ جاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہو جاتے ہیں۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
53. Whatever blessing you - O people - have in this world or in the afterlife is from Allah, may He be glorified, and not from anyone else. Then when some calamity, sickness or poverty afflicts you, it is to Him alone that you plead in supplication to remove what has afflicted you. Thus, the One who grants blessings and who removes difficulties is the One Who must be worshipped alone.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں