سورہ 16 · پارہ 14

سورة النحل · 16:21

أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ

مردے ہیں زنده نہیں*، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے.**
____________________
* مردہ سے مراد، وہ جماد (پتھر) بھی ہیں جو بے جان اور بے شعور ہیں۔ اور فوت شدہ صالحین بھی ہیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد اٹھایا جانا (جس کا انہیں شعور نہیں) وہ تو جماد کی بجائے صالحین ہی پر صادق آ سکتا ہے۔ ان کو صرف مردہ ہی نہیں کہا بلکہ مزید وضاحت فرما دی کہ ”وہ زندہ نہیں ہیں“ اللہ تعالٰی کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ موت وارد ہونے کے بعد، دنیاوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہو سکتی نہ دنیا سے کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے۔
**- پھر ان سے نفع کی اور ثواب و جزا کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

21. Despite the fact that the idol worshippers made their gods with their own hands, they are also lifeless things that have no life nor knowledge. They do not know when they will be resurrected with their worshippers on the Day of Judgement, to be thrown together with them into the fire of Hell.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں