سورہ 14 · پارہ 13

سورة إبراهيم · 14:7

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ

اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه *کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده** دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے.***
____________________
* تَأَذَّنَ کے معنی أَعْلَمَكُمْ بِوَعْدِهِ لَكُمْ، اس نے تمہیں اپنے وعدے سے تمہیں آگاہ اور خبردار کر دیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ قسم کے معنی میں ہو یعنی جب تمہارے رب نے اپنی عزت و جلال اور کبریائی کی قسم کھا کر کہا (ابن کثیر)
**- نعمت پر شکر کرنے پر مزید انعامات سے نوازوں گا۔
***- اس کا مطلب یہ ہوا کہ کفران نعمت (ناشکری) اللہ کو ناپسند ہے، جس پر اس نے سخت عذاب کی وعید بیان فرمائی ہے، اس لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی فرمایا کہ عورتوں کی اکثریت اپنے خاوندوں کی ناشکری کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی (صحيح مسلم، العيدين أوائل كتاب الصلاة)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

7. Moses said to them: Remember when your Lord clearly announced to you: If you are grateful to Allah for the above-mentioned favours that He has blessed you with, then He will give you more from His favour and grace. But, if you deny His favours to you and do not show gratitude for them, His punishment is severe for those who deny His favours and are not grateful for them.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں